مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
Poet: Hazrat Allama Pir Syed Naseer-ud-Din Naseer Gillani (Golra Sharif) By: Khalid Roomi, Rawalpindi مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
کوئی بہتری کی صورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
مجھے حسن نے ستایا مجھے عشق نے ہٹایا
کسی اور کی یہ حالت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
وہ جو بے رخی کبھی تھی وہی بے رخی ہے اب تک
مرے حال پر عنایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
وہ جو حکم دیں بجا ہے، مرا ہر سخن خطا ہے
انہیں میری رو رعایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
جو ہے گردشوں نے گھیرا تو نصیب ہے یہ میرا
مجھے آب سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
رتے در سے بھی نباہے ، در غیر کو بھی چایے
مرے سر کو یہ اجازت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
ترا نام تک بھلا دوں، تری یاد تک مٹا دوں
مجھے اس طرح کی جرات کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
میں یہ جانتے ہوئے بھی تری انجمن میں آیا
کہ تجھے مری ضرورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
تو اگر نظر ملائے ، مرا دم نکل ہی جائے
تجھے دیکھنے کی ہمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
جو گلہ کیا ہے تم سے تو سمجھ کے تم کو اپنا
مجھے غیر سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
ترا حسن ہے یگانہ، ترے ساتھ ہے زمانہ
مرے ساتھ میری قسمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
یہ کرم ہے دوستوں کا جو کہہ رہے ہیں سب سے
کہ نصیر پر عنایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






