معجزہ
Poet: Tariq Aziz Khan By: Tariq Aziz Khan, Islamabadوہ لمھہ کتنا بھاری تھا
کہ جب تمکو بچھڑنا تھا
مجھے یہ طے بھی کرنا تھا
کہ چاہے کچھ بھی ہو اب لوٹ کر انا نہیں مجھکو
تمھاری یاد آئے گی تری باتوں کو ترسونگا
مگر مجھکو تو سہنا ہے
مجھے سب کچھ بھلانا ہے
وہاں جب دھوپ نکلے گی
تری زلفیں نہیں ہونگی
مگر کوئی شجر تو مل ہی جائے گا
وہیں پر بیٹھ جاوئنگا
وہ لمحہ کتنا بھاری تھا
مجھے یہ طے بھی کرنا
کہ اب ہے جاگنا مجھکو
نہ کوئی خواب دیکھونگا
نہ کوئی گیت گائونگا
نہ کوئی ایسی ویسی بات میں ہونٹوں پہ لائونگا
کہ جس سے دل کی دھڑکن تیز ہوجائے
حرارت خون میں آئے
لبوں کی تشنگی کو اضطرابِ شوق آجائے
ہاں جس رستے سے تو آئے
میں وہ رستہ بدل دونگا
میں تجھکو بھول جائونگا
تصور سے تخیل سے تیرے خاکے مٹا دونگا
مگر یہ معجزہ ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر تجھکو بھلا پایا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






