مَظلُوم پہ جو ظُلم رَوا ہونے لگا ہے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالیمَظلُوم پہ جو ظُلم رَوا ہونے لگا ہے
ہر شخص ہی لگتا ہے خُدا ہونے لگا ہے
اِنسان ہی اِنسان کی ہے جان کا دُشمن
مولٰی تِری دُنیا میں یہ کیا ہونے لگا ہے
مُمکِن ہے بَرَس جاۓ یہ اسمان بھی گُونگا
مَظلُوم جو پھانسی کی سزا ہونے لگا ہے
آثار قیامت کے نَظَر آنے لگے ہیں
اِنسان جو اِنساں کا خُدا ہونے لگا ہے
پِهر آج ضرورت ہے حُسین اِبنِ علیؓ کی
اِنسان پہ پِهر ظُلم بڑا ہونے لگا ہے
مولٰی مُجھے ہمت دے کہیں ٹُوٹ نہ جاؤں
لگتا ہے وہ اب مُجھ سے جُدا ہونے لگا ہے
سِینے سے مِرے تُو اے غَمِ یار نکل جا
دِل قیدِ محبت سے رِہا ہونے لگا ہے
حیران ہوں باقرؔ تُو جو تھا ضَبط کا پیکر
محبُوب کا کیوں تُجھ سے گِلہ ہونے لگا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






