مُجھے ایسے تُمہیں نا آزمانا چاہِیے تھا
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quettaمُجھے ایسے تُمہیں نا آزمانا چاہِیے تھا
بتا کر ہی تُمہارے شہر آنا چاہِیے تھا
مِرے ہر ہر قدم پر شک کی نظریں ہیں تُمہاری
تُمہیں تو رُوٹھنے کا بس بہانا چاہِیے تھا
مِرے بچّے گئے ہیں کل سے پِکنِک کا بتا کر
نہِیں آئے ابھی تک، اُن کو آنا چاہِیے تھا
نجانے کِس لِیئے تھا رات سنّاٹوں کا پہرہ
مُجھے محفل میں تھوڑا گُنگُنانا چاہِیے تھا
کما کر میں جواں بچّوں کو پالُوں، بُوڑھا ہو کر
یہ بے حِس ہیں اِنہیں ہر حال (کھانا) چاہِیے تھا
ہُوئی ہوگی مِری تاخِیر سے لوگوں کو زحمت
مُعافی دو مُجھے بر وقت آنا چاہِیے تھا
بہُت ہی مُختصر تھا ساتھ اپنا اور تُمہارا
مگر تُم کو بُھلانے کو زمانہ چاہِیے تھا
کُھلی جو بات لوگوں نے اُچھالا کھول کے جی
اُنہیں تو گُفتگُو کو اِک فسانہ چاہِیے تھا
کِسی دِل کا کُھلا در دیکھ کر ہم آن بیٹھے
ہمیں تو سر چُھپانے کو ٹِھکانہ چاہِیے تھا
لگایا رتجگوں کا جِس نے اِن آنکھوں میں کاجل
سُکوں ایسے سِتم گر کا چُرانا چاہِیے تھا
رشِید اب تک گُناہوں میں گزاری زندگانی
تُمہیں تھوڑی سی نیکی بھی کمانا چاہِیے تھا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






