میرے تن کے زخم نہ گن ابھی
Poet: نامعلوم By: فرھاد خانزادہ, دبئیمیرے تن کے زخم نہ گن ابھی میری آنکھ میں ابھی نور ہے
میرے بازؤوں پہ نگاہ کر ، جو غرور تھا وہ غرور ہے
ابھی رزم گاہ کے درمیاں ہے میرا نشاں کھلا ہوا
ابھی تازہ دم ہے میرا فرض نئے معرکوں پہ تلا ہوا
مجھے دیکھ قبضہ تیغ پر ابھی میرے ہاتھ کی گرفت ہے
بڑا منتقم ہے میرا لہو یہ میرے نسب کی سرشت ہے
میں اسی قبیلے کا فرد ہوں جو حریفِ سیلِ بلا رہا
اسے مرگزار کا خوف کیا جو کفن بدوش سدا رہا
میرے غنیم نہ بھول تو کہ ستم کی شب کو زوال ہے
تیرا جبر ظلم بلا سہی میرا حوصلہ بھی کمال ہے
تجھے ناز جو سن و گرز پر مجھے ناز اپنے بدن پر ہے
وہی نامہ بر ہے بہار کا ، جو گلاب میرے کفن پر ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






