میرے ساتھ چلتے چلتے
Poet: اسلم جلالی By: اسلم جلالی, Karachiمیرے ساتھ چلتے چلتے گھبرا تو نہیں گیا
کہیں میرے خلاف کوئی بہکا تو نہیں گیا
شہرمیں ہر شخص کیوں اداس نظر آتا ہے
کہیں وہ شخص شہر سے چلا تو نہیں گیا
روشنی کیسی ہوگئی ہے بستی میں اچانک
کہیں وہ اپنے ہی گھرکو جلا تو نہیں گیا
لوگوں نے ابتو میرے پاس آنا ہی چھوڑدیا
کہِیں چراغ میری قبر کے بجھا تو نہیں گیا
ڈھونڈ رہی ہیں مقتل میں مائیں بچوں کو
کہیں نشان لاشوں کے قاتل مٹا تو نہیں گیا
سرگوشیاں کررہے ہیں گریباں چاک ہموطن
کہیں اس گلشن کو مالی ہی لٹا تو نہیں گیا
دھواں جو اٹھ رہا ہے زمیں سے آسماں تک
کہیں جاتے جاتے وہ بجلیاں گراتو نہیں گیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






