میرے لیے تو اس نے خود کو اک ظالم ستم گر رکھا
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbadہرجائی نے محبتوں میں فنکاری کا ہنر رکھا
اپنی مہارتوں میں دل عزاری کا اثر رکھا
میرے دل کے سکول خانے میں اس کے عشق کا ترانہ گونجتا رہا
اپنی ہی آرزو میں خود کو نئے سروپ کا جادوگر رکھا
دیکھا نا کبھی اس نے میری نگاہوں کے سمندر میں ڈوب کر
جہاں تک میں جا نا سکی اپنی منزل کا ایسا سفر رکھا
خود کو وقت کے علم کا بادشاہ مان کر مجھ پر ہنستا رہا
میرے لیے تو اس نے خود کو اک ظالم ستم گر رکھا
میں برداشت نا کر سکی اسے رقیب کے دل میں
علم نا ہوا بے رحم نے خود کو ہر کسی کا دلبر رکھا
میری محبت کا وجود اس کے گرد گردش کرتا رہا
جس نے خود کو تمام عمر آوراگی کا رہبر رکھا
دربدر بھٹکتا رہا حسن کی تلاش میں ہر بازار
حسن پر دل ہارتا رہا حسن کا خود کو نامور سوداگر رکھا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






