میرے محبوب ناں مانگ
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobarمجھ سے اس رات کی چاھت میرے محبوب ناں مانگ
مجھ سے اس رات کی چاھت میرے محبوب ناں مانگ
میں نے جانا تھا تیرا ساتھ ہی بس جیون ھے
تیرے سنگ رھنا ھے تو پھر وصل کا جھگڑا کیا ھے
تیری آنکھوں میں صبح کے جو کھلتے ہیں گلاب
تیرے ہونٹوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ھے
تو جو مل جائے تو یہ دنیا حسیں ہو جائے
تیرے آنے سے جنت یہ زمین ہو جائے
اور بھی غم ہیں زمانے میں تیرے غم کے سوا
محبتیں اور بھی ہیں تیری محبت کے سوا
مجھ سے اس رات کی چاھت میرے محبوب نہ مانگ
وہ جو لوگوں کے چہرے پہ تھے لالچ کے نقاب
جھوٹ اور مکرو فریب میں تھے لپٹے ہوئے
بہہ رھا تھا خون سر عام سبھی بازاروں میں
جسم پہ خاک تھی اور نفرت میں تھے نہلائے ہوئے
بھٹک جاتی ھے نظر ادھر بھی مگر کیا کیجئے
اب بھی تو یاد ھے اس دل میں مگر کیا کیجئے
اور بھی غم ہیں زمانے میں تیرے غم کے سوا
محبتیں اور بھی ہیں تیری محبت کے سوا
مجھ سے اس رات کی چاھت میرے محبوب نہ مانگ
میرے محبوب نہ مانگ
ملکہ ترنم نورجہاں کی برسی پر انکو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ۔
فیض صاحب کی لکھی ہوئی غزل کے بیک راؤنڈ پہ لکھنے کی جسارت کی ھے ۔
شکریہ ۔ شبیب ہاشمی
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






