میرے چاره گر تیری محبتوں میں چھپی ھوئی ھیں عداوتیں
Poet: سیده سعدیه عنبر جیلانی By: سیده سعدیه عنبر جیلانی, فیصل آباد پنجاب پاکستانمیرے چارہ گر تیری محبتوں میں چھپی ہوئی ہیں عداوتیں
کبھی قربتیں کبھی فرقتیں کبھی منزلیں اور مسافتیں
کبھی انتہاء کی طلب تیری کبھی میری دعا میں خواہشیں
کبھی اجنبی میرے حال سے کبھی عمر بھر کی رفاقتیں
کوئی قصہ ہو کھل کر بیاں کوئی بات ہو رونم
ترک ء تعلق بھی نہیں اور ساتھ میں بھی قباحتیں
یہ وجہ بے وجہ نہیں یہ بات بے سبب نہیں
ذرا سن میرے ہم نشیں یہ خاموشیوں کی وضاحتیں
بچھڑ کے مجھ سے دل نشیں پکھر نہ جاؤ تم کہیں
ہیں تلخ بہت حقیقتیں اور وقت کی یہ عدالتیں
ہم محبتوں کے ہیں شہر ء یار ہم غزل و شعر کے شہر زاد
بسا رہے ہو کس طرح کی ہم میں تم اکتاہٹیں
جلا کے خود کو درد میں اور آہ بھی نہ کیجئیے
کٹھن بہت کٹھن ہیں یہ محبتوں کی نازاکتیں
عشق سے عنبر نبھا کر تلاش میں ہو کس قدر
جو جان و دل لوٹا چکے میسر کہاں اسے راحتیں
سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






