میں ان سے کوئی بات چھپانا نہیں چاہتی ہوں
Poet: UA By: UA, Lahoreمیں ان سے کوئی بات چھپانا نہیں چاہتی ہوں
یہ اور بات ہے کہ بتانا نہیں چاہتی ہوں
کوئی اور خواب آنکھوں میں سجانا نہیں چاہتی ہوں
کسی اور راستے پہ جانا نہیں چاہتی ہوں
اپنے حصار الفت میں محصور کر لو صرف تم
اس قید سے تا عمر رہائی پانا نہیں چاہتی ہوں
تمہیں ہر بات میں یاد رکھتی ہوں اے دوست
میں کسی طور تم کو بھلانا نہیں چاہتی ہوں
مجبور ہوں دنیا کی روایات سے ورنہ
ایسا نہیں کہ پاس میں آنا نہیں چاہتی ہوں
قسمت کا ستم ہے کہ ابھی تم سے دور ہوں
یہ کس نے کہا ساتھ میں جانا نہیں چاہتی ہوں
ہر بات میں عظمٰی انہی کی بات کرتی ہوں
میں ان کی کوئی بات بھلانا نہیں چاہتی ہوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







