میں اپنے خواب کی تعبیر کس سے طلب کروں کہ ۔ ۔
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمیں اپنے خواب کی تعبیر کس سے طلب کروں کہ
میدان میں اپنی اور ُاس کی قبر کو - سبز چادر میں ایک ساتھ دیکھا
جسم کیا میری روح تک کانپ ُاٹھی
جب ُاس کی نطر میں انجانا روپ دیکھا
یہ آندھیاں - یہ طوفان کب تھمے گئے آخر
اب تو اپنے وجود کو بہت ہارا دیکھا
وہ شخص جان سے بھی پیارا کیوں ہیں مجھے
جس نے کبھی نا میری طرف مڑ کر دیکھا
جلد باز نہیں میں - پر اب صبر نہیں ہوتا
اک مددت سے خدا کا - نہیں کوئی معجزہ دیکھا
رات بھر وہ برسات میں بھیگتا رہا لکی
مسکراتی آنکھوں کو - نہیں جس نے برستا دیکھا
طویل باتیں تو مجھے کرنی نہیں آتی
چہرہ دیکھنے والے نے - نہیں دل دھڑکنیں کا انداز دیکھا
ہواؤں میں خشبوں آ رہی ہیں کب سے
آج ہواوں میں ُاس کے آنے کا پتہ دیکھا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






