میں درد دل میں تجھے پکاروں
Poet: پنچھی By: Abdulwadood, Chiniotتیری یاد میں خود کو سنواروں جو نہ سنواروں تو کیا کروں پھر
میں دردِ دل میں تجھے پُکاروں جو نہ پُکاروں تو کیا کروں پھر
میں تیری ہستی کا اِک شجر تھا جو تیرے بسنے سے تھا شاداب
اب تیرے بِن خود کو اُجاڑوں جو نہ اُجاڑوں تو کیا کروں پھر
کہیں عشقِ کامل میں تیری واحدت میں ہو نہ جائے شریک کوئ
میں دنیاں بھر سے ہی بِگاڑوں جو نہ بِگاڑوں تو کیا کروں پھر
تو ہی تو دل کی منتیں ہیں تجھ سے ہی دعائیں عبادتیں ہیں
میں تیرے صدقے کیوں نہ اُتاروں جو نہ اُتاروں تو کیا کروں پھر
زرا تڑپ کر زرا سسک پھر تیری آس میں بلک بلک کر
میں شبِ ہجر کو یوں گُزاروں جو نہ گُزاروں تو کیا کروں پھر
میری جان و روح اُکتا چکے ہیں پنچھی میرے جسم قفس سے
تو میں جاں تجھ پہ کیوں نہ واروں جو نہ واروں تو کیا کروں پھر
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






