میں درد کا قصہ ہوں تو راحت کا نغمہ
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadمیں درد کا قصہ ہوں تو راحت کا نغمہ
جہاں دونوں کا سنگم ہو نہیں ایسا کوئی رستہ
تم پھول ہو گلشن کا میں پت جھڑ کا موسم
تیری آنکھ میں جگنو ہیں میری آنکھیں ہے پرُ نم
یہ ریت پرانی ہے یا فیصلہ قسمت کا
میں درد کا قصہ ہوں تو راحت کا نغمہ
تم دور رہو مجھ سے قربت سے بچو میری
کہیں روٹھ نہ جائے یہ معصوم ہنسی تیری
دل سوز خزاؤں سے کیوں رکھتے ہو ناطہ
میں درد کا قصہ ہوں تو راحت کا نغمہ
بات جو دل کی ہے دل میں ہی رہنے دو
ہونٹو ں پہ لا کر تم نہ جان کے دشمن ہو
پل پل کا ہے جینا پل پل کا ہے مرنا
میں درد کا قصہ ہوں تو راحت کا نغمہ
انجا م کا ڈر کس کو جب بات ہو الفت کی
آنکھوں میں روشن ہےاب آنچ محبت کی
کہیں چین نہیں ملتا ،ہے جب سے دل ہارا
میں درد کا قصہ ہوں تو راحت کا نغمہ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






