میں نے بڑےموت کے سوداگردیکھے ہیں
Poet: Habibullah ganchevi By: habib ganchvi, Islamabadمیں نے بڑےموت کے سوداگردیکھے ہیں
اُجڑتے ہوئے شہر کے شہر دیکھے ہیں
میں نے پوشیدہ شہد کی شیرینی میں
خاموش سی جان کنیں زہر دیکھے ہیں
گل فشاں میٹھی سی باتوں میں کبھی
مضمربڑے ہولناک قہر دیکھے ہیں
رات کی تاریک گناہوں میں لت پت
پاکیزہ ہستیوں کی سحر دیکھے ہیں
میں نے اس دیس میں صاحب منبر کے
خلوت میں بکھرتے شر دیکھے ہیں
ہم نے ظاہر میں بڑے دین داروں کے
باطن میں چُھپائے ہوئے کفر دیکھے ہیں
اُجڑی ہوئی بستی اُجڑے گھر دیکھے ہیں
ننگ دھڑنگ پھرتے بشر دیکھے ہیں
قانون کو چوکھٹ پہ رگڑتے سر دیکھا ہے
سیاست میں ایسے مشاق ہنر دیکھے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






