میں پاگل تھا
Poet: Zaheer Kunjahi By: Bakhtiar Nasir, Lahoreتیری گلی کا ایک دریچہ میرے نام پہ کھلتا تھا
میں سمجھا تھا تو میری ہے پر یہ من کا دھوکا تھا
سورج کی کرنوں نے بتایا پیار بھی ہے اب مطلب کا
ہم سے پہلے بھی دنیا میں کیا ایسا ہی ہوتا تھا
گوری تیرے نین رسیلے میرے من کو بھائے تھے
سوچوں کا انجانا پنچھی نینوں پر منڈلاتا تھا
میں پاگل تھا من موجی تھا تجھ کو سمجھ بیٹھا اپنا
تو بھی بدل جائے گی اک دن یہ کب میں نے سوچا تھا
اپنے دل کی ساری خراشیں میں نے چھپائیں لوگوں سے
اندر اندر روتا تھا میں ظاہر ظاہر ہنستا تھا
وہ سر کو سرتاج بنانے کا جب سوچا کرتی تھی
میں پنچھی آزاد فضا کے سپنے بنتا رہتا تھا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






