میں زندگی کی تمنا میں مر نہیں سکتی
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKمیں زندگی کی تمنا میں مر نہیں سکتی
کہ حادثاتِ زمانہ سے ڈر نہیں سکتی
وہ فیصلہ جو مجھے آپ سے جدا کر دے
وہ فیصلہ میں کسی طور کر نہیں سکتی
ترے جمال کا چھایا ہے اس طرح جادو
مری نگاہ کسی پر ٹھہر نہیں سکتی
نجانے کیسے گذاروں گی میں اسے تنہا
وہ زندگی جو ترے بن گذر نہیں سکتی
گذارنا ہے اسے اب سنوارنا کیا ہے
یہ زندگی جو کبھی اب سنور نہیں سکتی
تری نگاہِ کرم کے بنا مرے مولا !
مری حیات کی صورت نکھر نہیں سکتی
بھرا ہی رہتا ہے پانی ہمیشہ آ نکھوں میں
ندی یہ اشکوں کی شاید اتر نہیں سکتی
رہے گی یاد تمہاری سدا مرے دل میں
غبار بن کے ہوا میں بکھر نہیں سکتی
خدا گواہ بنا تھا بوقتِ عہدِ وفا
میں اپنے عہدِ وفا سے مکر نہیں سکتی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






