نجانے کھو دیا ہم نے کہاں جا کر سکوں اپنا
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKنجانے کھو دیا ہم نے کہاں جا کر سکوں اپنا
نہ کر برباد تو اے چاندنی ہم پر فسوں اپنا
نہ ہم ملتے نہ گلُ کھلتے نہ ایسی داستاں بنتی
نجانے اور کیا کیا رنگ لاۓ گا جنوں اپنا
حِنا مہکی جو ہاتھوں پر تو یہ دِل نے کہا مجھ سے
ہتھیلی پر سجا رکھا ہے ظالم تم نے خوں اپنا
ذرا ٹھہرو مِرے اشکو ضرورت کیا ہے بہنے کی؟
رہو گے کھو ل کر دُنیا پہ کیا حالِ دروُں اپنا
توُ میرے ساتھ تھا تو گویا دُنیا ساتھ تھی میرے
ہوا ہے حال کیسا کیا کہوں تیرے بدوں اپنا
چلا کرتے تھے ہم بھی سر اُٹھا کر اِک زمانے میں
تمہاری بے وفائی نے کیا ہے سر نگوں اپنا
نہیں کوئی بھی ایسا جو سمجھ پائے زباں میری
بھلا یہ دردِ کس طرح زمانے سے کہوں اپنا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






