نظم ...سنو لڑکی
Poet: Haya Ghazal By: Haya Ghazal, Karachiسنو لڑکی
ذرا اک بات کہنی ہے
سنو لڑکی.......!ذرا ٹھہرو
کہ آگے راستہ دشوار ہے
اور.....تمہاری عمر ہے کچی
سنبھلنا ہے ابھی
جانا نہیں ان انجان رستوں پر
کہ جنکی کوئ بھی منزل نہیں ہوتی..
ابھی آنکھوں میں کوئ بھی
ادھورے خواب نہ رکھنا
سنو لڑکی
ابھی تم نہ الجھنا
عشق کی دشوار جھاڑی میں
کہیں دامن کو تار تار،نہ کردے
تمہاری معصوم خوشیوں کا
کہیں یہ خون نہ کردے
ابھی رکھنا نہ سوکھے پھول
تم اپنی کتابوں میں
نہ پڑھنا شاعری میں
فراز اور فیض کی غزلیں
کہ یہ بھی وہی دنیا دکھاتے ہیں
پرانے درد کچھ
ڈھلتی شام کے سائے کے ساتھ
کبھی رستے ہیں آنکھوں سے
کبھی دل کو جلاتے ہیں
ابھی چھوٹی ہوتم
تمہاری عمر بھی کلیوں کی جتنی
سنو تم گڑیوں سے کھیلو
محبت زخم دیتی ہے
ہر اک موسم
ہر اک لمحہ
نیا اک درد دیتا ہے
ابھی ہنسنے کے دن ہیں
سو اس سے دور ہی رہنا
میری باتیں
کہیں تم بھول نہ جانا
بہت نادان ہو کیونکہ
تھوڑا وقت دو خود کو
اور تھوڑی سی توجہ بس
بھول نہ جانا
سمجھ جانا
سنو لڑکی
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






