نقوش اپنی یادوں میں کون سا ہوں
Poet: مہران علی خان By: مہران علی خان, Rawalpindiنقوش اپنی یادوں میں کون سا ہوں؟
میں سایا ہوں، خوابوں میں بکھرا ہوا ہوں
کسی داستانِ قدیمہ کا حصہ ہوا ہوں
کبھی میں تھا محفل میں روشن چراغوں سا
ابھی راکھ میں دب کے ٹھنڈا ہوا ہوں
یہ لمحے، یہ گلیاں، یہ ویران رستے
کہاں میں تھا کل تک، کہاں کھو گیا ہوں؟
کبھی وقت نے مجھ کو مٹی بنایا
کبھی آبِ چشموں میں بہتا ہوا ہوں
کبھی رنگ سا تھا کسی کی نظر میں
کبھی خاکِ در پر بکھرتا ہوا ہوں
جو پلکوں پہ آ کے ٹھہر بھی نہ پایا
میں آنسو تھا شاید، گرا یا بہا ہوں؟
مجھے ڈھونڈتا ہے میرا آئینہ بھی
کہ میں عکس تھا یا فنا ہو چکا ہوں؟
یہی سوچتا ہوں میں راتوں کی چُپ میں
نقوش اپنی یادوں میں کون سا ہوں؟
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






