نہ آئیں گے کبھی بھی لوٹ کر اب ڈاکٹر زاہد
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKبیادِ ڈاکٹر زاہد شیخ نذرانہَ تعزیت
نہ آئیں گے کبھی بھی لوٹ کر اب ڈاکٹر زاہد
بسا بیٹھے نیا کوئی نگر اب ڈاکٹر زاہد
دیا کرتے تھے جیسی داد کھل کر ہر لکھاری کو
نہ یوں دے پائے گا کوئی بشر اب ڈاکٹر زاہد
حقیقت تو یہی ہے آپ ویب کی شان تھے گویا
کریں تسلیم یہ شمس و قمر اب ڈاکٹر زاہد
نہ صرف اچھے وہ شاعر تھے،مگر انساں بھی اعلی تھے
ہے ہر اِک شخص کو اس کی خبر اب ڈاکٹر زاہد
ہمیں دکھ ہے تو بس اتنا کہ کیسے موڑ پر آ کر
ملا ہے آپ کو اذنِ سفر اب ڈاکٹر زاہد
خدا سے بس ہماری تو دعا ہے آپ کی خاطر
ملے جنت میں اِک اچھا سا گھر اب ڈاکٹر زاہد
خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے اہلِ خانہ کو
خدا ہی دے گا ان کو بھی صبر اب ڈاکٹر زاہد
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






