نہ تکرار کر تو لوٹ جا مجھے بھول جا - مکمل
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadنہ تکرار کر تو لوٹ جا مجھے بھول جا مجھے بھول جا
پھولوں سے مل خوشبو چرا مجھے بھول جا مجھے بھول جا
یہ راستہ تو ہے کھٹن بڑا تجھے شاید نہیں ہے پتا
اس راہ پہ چلنا ہے سزا مجھے بھول جا مجھے بھول جا
مجھے جلنے دے تو اس آگ میں تنہائی محفل میں
جل جائے گا تو نہ پاس آ مجھے بھول جا مجھے بھول جا
وفا میری کو چاہے تو خطا سمجھ جفا سمجھ پر
میری ہے تم سے ہےالتجا مجھے بھول جا مجھے بھول جا
احسان کر اور مجھ پر سامنے نا آنسو بہا
نہ آگ لگا نہ یہ دل جلا مجھے بھول جا مجھے بھول جا
یاد کر تو کبھی نہ مجھے کبھی نہ مجھے تو یاد آ
ہر وقت نہ مجھے آزما مجھے بھول جا مجھے بھول جا
کہو کیسے اسے ساجد ساتھ جینا ساتھ مرنا
یہی تو نہیں ہے بس وفا مجھے بھول جا مجھے بھول جا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






