نہ میرے سر پہ آسماں نہ پاؤں کے تلے زمیں
Poet: Aisha Baig Aashi By: Aisha Baig Aashi, karachiنہ میرے سر پہ آسماں نہ پاؤں کے تلے زمیں
نہ میرا کوئی ہمنوا ، نہ میرا کوئی ہمنشیں
یہ وحشتوں کا سوختہ ، محبتوں کا سلسلہ
کسی کے پاس بھی نہیں، کسی سے دُور بھی نہیں
میں جی کے بھی نہ جی سکی ، میں مر کے بھی نہ مر سکی
مجھے خود اپنے ڈس گئے ، مثالِ مارِ آستیں
نہ میں اِسے سمجھ سکی نہ یہ مجھے سمجھ سکا
میں شاید اس جہان کی مزاج آشنا نہیں
تغیراتِ زندگی کے مرحلے عجیب ہیں
پلی کہیں بڑھی کہیں بسی کہیں مری کہیں
کچھ اور دردِ جاں گُسِل کچھ اور فکرِ بے کراں؟۔
نہیں اجی نہیں نہیں اجی نہیں اجی نہیں
اداسیوں کی سر زمیں کی سنگلاخ برف پر
گلابِ آرزو کھلے تو تھے مگر کہیں کہیں
ہے آج عاشی سجدہ ریز اُسکی بارگاہ میں
جھکی ہے جس کے سامنے حیاتیات کی جبیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






