نینوں کا تارا تھا
Poet: Gulzaib Anjum By: Gulzaib Anjum, Dubaiشعیب کی یاد میں
بہن بھائیوں کی جان، شریک حیات کا سہارا تھا
اولاد پہ سایہ افگن والدین کے نینوں کا تارا تھا
دیس پردیس میں سب سے شناسائی اُس کی
وہ سب کا غمخوار وہ سب کو پیارا تھا
درد سہہ کر بھی رکھتا ہلکی سی مسکان لبوں پر
بانٹتے ہیں جو خوشیاں اُن میں اُس کا شمارا تھا
حَسب دُستور، در جوانی، وطن سے دُوری
رزق حلال کی خاطر پردیس سے اُس کا یارا تھا
اُداس ہو گئ راہیں،سونی ہو گئ گلیاں اُس بن
یُوں لگتا وہی بستی کا شہزادہ وہی گلیوں کا بنجارا تھا
الٰہی سَدا رکھنا رحمتوں کا نُزول اُس کی تُربت پر
جو آغوش مادر میں جیون بازی ہارا تھا
کیوں بخشی مجھے جدائی کیوں سونپی یہ ظالم تنہائی
ہم سَدا اک دُوجے کے رہیں گے یاد کرو یہ عہد تمارا تھا
اُف توبہ کیا سینہ شکن تھا بین اُس کا جو کہتی تھی
کیوں چھوڑ گئے تم ،تم بن کون میرا سہارا تھا
اے دوست شعیب اے ہمراز شعیب اے پاگل زیّب
مرہم کہاں تھے،تیرے لفظوں نے تو اک اور تیر مارا تھا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






