وفا جنوں اعتبار
Poet: عرشیہ ھاشمی By: arshiya hashmi, islamabadمیں کیسے لکھ دوں؟؟
کہ دوستی میں
وفا جنوں عشق کی کہانی
کہی گئی تھی
خوشی کی ڈالی چہکتی مینا
وہ سبز رت میں گلاب جو بن
بہار رت کی ہے فصل ساری
غم دوراں تو نگلتے جاتے ہیں چاہتوں کو
راہ عمل میں چہوٹ جاتے ہیں دوست اکثر
مگر یہ سچ ہے
کسی سکھی کلو بھلا نہ پائے
کہ جب بھی یاد آئیں ہم تو دل میں ہیں مسکرائے
یہ مانا ہم نے
کہ دوستی تو ہی رب کا تحفہ
سنواے پیاری لڑکی
مقدروں کا ہے کھیل سارا
نصیب تیرا خدا صدا خوشگوار لکھے
کہ زندگی میں حیات کامل بہار لکھے
خدا کبھی نہ خزاں کا چہرہ تمہیں دکھائے
دوستی کے اس بندھن کو
خوشی کا لیل و نہار لکھے
وفا جنوناعتبار لکھے
وہ پیار لکھے
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL







