وقت کی دہلیز پہ
Poet: Azra Faiz By: Azra Faiz, wahوقت کی دہلیز پہ
جانے کتنے چاند گزرے
بند در کی کھڑکی سے
سیاہ بالوں میں چاندنی چمکے
وقت کی دہلیزپہ
ڈھلتی عمر میں کچے سپنے
پکّی حقیقت میں ہیں بدلے
کچے سپنے،پکی حقیقت
جانے کیوں رہتے ہیں الجھے
وقت کی دہلیز پہ
امیدوں کے روشن چہرے
جلتے بجھتے بجھ سے گئے ہیں
خالی جیبیں ہیں پھر بھی
قیمت پوچھتے رہتے ہیں
وقت کی دہلیز پہ
کم دِکھتی آنکھوں سے
گرتے اٹھتے قدموں سے
بند در کی کھڑکی سے
ہر بکنے والے کو
دیکھتے ہی رہتے ہیں
وقت کی دہلیز پہ
جانے کتنی بیٹیوں والے
کچی نیند سوتے سوتے
وقت سے پہلے
ابدی نیند سو جاتے ہیں
وقت کی دہلیز پہ
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






