وہاں لے لوٹنا ہے جست جس گوشے میں کرتے ہیں
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIوہاں لے لوٹنا ہے جست جس گوشے میں کرتے ہیں
ہمیں معلوم ہے پرواز ہم پنجرے میں کرتے ہیں
کوئی صدیاں نہیں لگتیں ہمارے دن بدلنے میں
ہم اپنا فیصلہ بس ایک ہی لمحے میں کرتے ہیں
در و دیوار زنداں سے مخاطب ہو رہے ہیں ہم
وہی کچھ کر رہے ہیں لوگ جو ایسے میں کرتے ہیں
سنی تھی ہم نے بھی شیرینی گفتار کی شہرت
مگر وہ گفتگو کچھ اور ہی لہجے میں کرتے ہیں
بھٹکتے پھر رہے ہیں آج تک اس جرم عصیاں پر
مذمت رہزن و رہبر کی ہم رستے میں کرتے ہیں
یہ صحرا شام تک ساری گلی میں پھیل جاتا ہے
ہم اپنی صبح کا آغاز جس کمرے میں کرتے ہیں
کسی دن ان فضاں میں چہکتے دیکھنا ہم کو
ابھی اس شوق کی تکمیل ہم پنجرے میں کرتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






