وہ شخص میرا شہر سنسان کر گیا
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbadبسا بسایا دل ویران کر گیا
وہ شخص میرا شہر سنسان کر گیا
تھی کس قدر مجھے اسکی چاہت
میرے دل کو کس قدر پریشان کر گیا
نا پوچھتا ہے میں بات کیوں نہیں کرتی نا بات کرتا ہے
میری محبت کو بس اک وہم و گمان کر گیا
چاند ستاروں کی حسین راتوں میں تنہاہ کر دیا
اماوس کی رات قربت دے کر حیران کر گیا
گواہ میرے سچے جذبوں کا بس خدا ہے
اپنی بات سے مکر کر مجھے بے ایمان کر گیا
شکوہ بھی ہے تجھ سے تیرے ملنے کی فریاد بھی
کتنے پیارے اس بے نام چاہت پر احسان کر گیا
کسی اور کی نگاہوں میں تھا وہ قبل سے
میری محبت کو بس لمحوں کا مہمان کر گیا
وقت کے دامن میں جھوٹے دعوں کی آس ہے
رسوائی میری رگوں میں سرطان کر گیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






