وہ پوچھتی ہے! تم ہرپل یوں اُداس کیوں رہتے ہو۔؟
Poet: Haroon Ur Rasheed uDas By: Haroon Ur Rasheed uDas, Muzaffarabadakوہ پوچھتی ہے! تم ہرپل یوں اُداس کیوں رہتے ہو۔؟
سب سے بولتے ہو مجھ سے ناراض کیوں رہتے ہو
مُجھ سے چُھپا کہ رکھتےہو تم ہر بات اپنے دل کی
باقیوں سے ہی کیوں سرِعام ہر رازکہتے ہو۔ ؟
میں کہتا ہوں یقیں جانو میں تو اَزل سے ایسا ہوں
چھوڑ گیا تھا جس حال میں اب بھی تو بالکل ویسا ہوں
سو تم کیوں میرا اِتنا فکر و گُماں کرتی ہو؟
اندر کی چھوڑو بظاہر تو میں تم سب جیسا ہوں
یہ بول کہ پھر ہم اپنی اپنی راہ چلنے لگتے ہیں
سوال اُس کے میرے گِرد بھٹکنے لگتے ہیں
ایسا کیوں ہوں میں آخر ہوا کیا تھا میرے ساتھ۔؟؟
سانپ بن کے یہ سوال مُجھے ڈسنے لگتے ہیں
پھر یاد آیا میرا ماضی جو مجھے صدائیں دیتا تھا
میں ساتھ تھااُس کے جو مجھے دُعائیں دیتا تھا
اور پھرمَر گیا وہ دِل جو جینے کی صلاحیں دیتا تھا
ہاں مَر گیا وہ ہارون ؔ جو پیار کی اَذانیں دیتا تھا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






