وہ کبھی میری کامیابیوں کی آس ٹوٹنے نہیں دیتے
Poet: Muhammad Tanveer Baig By: Muhammad Tanveer Baig, Islamabadوہ کبھی میری کامیابیوں کی آس ٹوٹنے نہیں دیتے
دو قدم اور چلنے کو کہتے ہیں مجھے رکنے نہیں دیتے
بہت کرتے ھیں پیار مجھ سے اور کہتے ہیں خوش خوش رہنے کو
عجیب لوگ ہیں یہ مجھے کبھی پریشاں ہونے نہیں دیتے
ھمت دیتے ہیں مجھے چاند ستاروں کو چھو لینے کی
وہ میرے پیارے مجھے کبھی ٹوٹ کر بکھرنے نہیں دیتے
میں جانتا ہوں ان کی آنکھوں میں بھی غم کے سیلاب ھیں
پھر بھی میرے آنسوؤں کو وہ کبھی گرنے نہیں دیتے
کہتے ہیں،“تمہارے بغیر ھماری زندگی کیا ہے“ تنویر
چھپا کے ھزاروں دکھ وہ اپنے مجھے رونے نہیں دیتے
(یہ میں نے اپنے والدین کے لیئے لکھی ھے)
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






