وہ کہتی ہے
Poet: عامر رفیق By: عامر رفیق, village Hazara Mughlan p\o karianwala Gujratہمارے بارے میں زمانہ باتیں کرتا ہے
بھلا دو ہم کو وہ کہتی ہے
نہیں چاہتی کے بدنام ہو دونوں زمانے میں
اب ٹور دو یہ رشتہ وہ کہتی ہے
نا ملے گا کوئی دنیا میں تیرے جیسا
رکہوں گی ہمیشہ یاد تم کو وہ کہتی ہے
دیتے ہوے خط وہ رو رہی تھی
یاد کر کے تم کو مسکراؤ گی وہ کہتی ہے
خط بھی رو رہا تھا لفظوں کو دیکھ کر
اس کے آخر میں سدا مسکراو وہ کہتی ہے
اب اس کے بغیر میں کیا کرو
مرنے کا سوچوں توعاؔمر اس کی اک بات یاد آتی ہے
جینا صرف میرے لیے وہ کہتی ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






