وہ ہاتھوں میں چہرا چھپائے تھی بیٹھی
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: سعدیہ انجم, لاہوروہ ہاتھوں میں چہرا چھپائے تھی بیٹھی
وہ سب کچھ ہی اپنا لٹائے تھی بیٹھی
وہ جنگل کے لاچار آہو کی مانند
درندوں میں خود کو پھنسائے تھی بیٹھی
اسی کے لہو سے رنگی تھی وہ چادر
وہ جس سے بدن کو چھپائے تھی بیٹھی
جو پل بھر میں ٹوٹے کئی اس پہ محشر
وہ چیخوں سے اپنی بتائے تھی بیٹھی
وہ رسی کو بھی سانپ کہنے لگی تھی
وہ ڈر ایسا دل میں بٹھائے تھی بیٹھی
اسے باولی لوگ کہنے لگے تھے
وہ یوں اپنی سدھ بدھ گنوائے تھی بیٹھی
جو شادی کا جوڑا سنبھالے تھی پھرتی
اب اس کا کفن وہ بنائے تھی بیٹھی
وہ ذلت کے جیون سے بیزار ہو کر
کئی بار خود کو جلائے تھی بیٹھی
فقط اس کی ارتھی کا اٹھنا تھا باقی
وہ اک لاش خود کو بنائے تھی بیٹھی
اسے عدل کی بھیک مل ہی نہ پائی
وہ ہر ایک در کھٹکھٹائے تھی بیٹھی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






