وہ ہرجائی۔۔۔۔۔۔
Poet: UA By: UA, Lahoreچاہت کا دم بھرتا ہے
لیکن دنیا سے ڈرتا ہے
وہ گرچہ محبت کرتا ہے
ظاہر کرنے سے ڈرتا ہے
وہ بے وفا نہیں لیکن
وہ بے وفائی کا الزام
اپنے ہی سر دھرتا ہے
دنیا سے ڈرتا رہتا ہے
اس ڈر سے وہ یہ کہتا ہے
میں وہ بے مروت ہوں میں ہوں وہ ہرجائی
جسے ڈھنگ سے محبت کرنا آئی ہی بےوفائی
بس ایک تیری خاطر ساری دنیا سے ٹکرا جاؤں
نہ جی نہ مجھ سے نہ ہوگی دنیا والوں سے لڑائی
کوئی محبت کرکے خرچے کیسے پورے کر پائے
بڑھ گئی ہے کس قدرتم خود سوچو مہنگائی
مجھ سے دور رہنے میں ہے عظمٰی تیری بھلائی
میری فطرت میں ہے پرلے درجے کی ڈھٹائی
چاہت کا دم بھرتا ہے
لیکن دنیا سے ڈرتا ہے
وہ گرچہ محبت کرتا ہے
ظاہر کرنے سے ڈرتا ہے
وہ بےوفا نہیں لیکن
وہ بے وفائی کا الزام
اپنے ہی سر دھرتا ہے
دنیا سے ڈرتا رہتا ہے
اس ڈر سے وہ یہ کہتا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






