ياد
Poet: Amjad Islam Amjad By: AAZAD ALI, HUB CHOWKIاس موسم ميں جتنے پھول کھليں گے
ان ميں تيری ياد کی خوشبو ہر سو روشن ہو گی
پتہ پتہ بھولے بسرے رنگوں کی تصوير بناتا گزرے گا
اک ياد جگاتا گزرے گا
اس موسم ميں جتنے تارے آسمان پہ ظاہر ہوں گے
ان ميں تيری ياد کا پيکر منظر عرياں ہوگا
تيری جِھلمِل ياد کا چہرا روپ دکھاتا گزرے گا
اس موسم ميں
دل دنيا ميں جو بھی آہٹ ہوگی
اس ميں تيری ياد کا سايا گيت کی صورت ڈھل جائے گا
شبنم سے آواز ملا کر کلياں اس کو دوہرائيں گی
تيری ياد کی سن گن لينے چاند ميرے گھر اترے گا
آنکھيں پھول بچھائيں گی
اپنی ياد کی خوشبو کو دان کرو اور اپنے دل ميں آنے دو
يا ميری جھولی کو بھر دو يا مجھ کو مرجانے دو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






