ُپاکستان
Poet: جاوید صدیقی By: جاوید صدیقی, کراچیکوئی دُودھ سے دُھلا نہیں یہاں پر
سیاست لپٹی ہوئی ہے جرم میں یہاں پر
دوسروں پر الزام لگانا ہے آسان لیکن
اپنے گریباں میں جھانکنا مشکل یہاں پر
ہاتھ ہیں ڈوبے ہوئے ناخون حق میں
مقتل گاہ ہیں سیاسی تنظیمیں یہاں پر
بن گیا ہے شب و روز فیشن یہاں سیاست کا
کہ لاشوں پہ چلتی ہے سیاست یہاں پر
قوموں میں انتشار در انتشارہے پھیلا
غدار وطن کا ہوا راستہ ہموار یہاں پر
ظالم و قاتل ہےں آزاد ہماری صفوں میں
کس سے کرے گا فریاد اب آدمی یہاں پر
ضمیر بکتا ہے یہاں چند کوڑیوں پر
انسانیت کو قتل کرتا ہے انساںیہاں پر
یہ کیسی جمہوریت ہے میرے پاک وطن میں
ابلاغ کو بھی زنجیر میں پنہاں کیا ہے یہاں پر
ہر ایک نے اوڑھ لی ہے چادرِ فرعونی
ہے کوئی جاوید اب وارثِ ا بن قاسم یہاں پر
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






