پیار بھری رات کو شب غم لکھ دیتا ہوں
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAتیری یاد میں جانے کیا کیا لکھ دیتا ہوں
پیار بھری رات کو بھی شب غم لکھ دیتا ہوں
جب سے تیری صورت دیکھی عجب حالت ہے میری
صبح کو شام اور کبھی شام کو صبح لکھ دیتا ہوں
ہوائیں جب چلتی ہیں برسات چھم چھم برستی ہے
ایسی ہر سہانی شام میں تیرے ہی نام لکھ دیتا ہوں
جب چودھویں کا چاند نکلتا ہے اور گلاب کھلتا ہے
میں گلاب کی ہر کلی کو تیرا گال ہی لکھ دیتا ہوں
میں لاکھ جتن کر کے بھی تجھے کیسے بھلا پاؤں گا
میں بھول کر بھی تجھے یاد رکھنا لکھ دیتا ہوں
اپنے پیار کی میت کو جب کندھا دینے نکلتا ہوں
گھر کا راستہ بھول کر تیرا ہی کوچہ لکھ دیتا ہوں
لوگ پوچھتے ہیں میں کس کے فراق میں پاگل ہوں
آنکھیں بند کرتا ہوں اور تیری صورت لکھ دیتا ہوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







