پیہم ہیں دوستو
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quettaاشکوں سے اپنی آنکھیں ہی پرنم ہیں دوستو
"اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو"
ایسی ہوئی خطا کہ معافی نہ مل سکی
غیروں کو چھوڑ اپنے بھی برہم ہیں دوستو
ہر سمت ہم کو درد ہی سایہ فگن ملا
مایوسیوں کے وار ہی پیہم ہیں دوستو
مجنوںؔ تھا قیسؔ نام کا پھر اس کے بعد ہم
تھامے ہوئے جو عشق کا پرچم ہیں دوستو
کتنا ہے جان کاہ غمِ روز گار بھی
مدغم اسی میں اور سبھی غم ہیں دوستو
دیکھو متاعِ درد کے کتنے حریص ہم
ڈھیروں ملے ہیں رنج مگر کم ہیں دوستو
ہم بے خبر مجاز کے پیچھے پڑے رہے
اس بے طرح سے بھاگے کہ بے دم ہیں دوستو
اپنا علاج یار کی صورت میں ہے نہاں
ہیں زخم بھی وہی، وہی مرہم ہیں دوستو
اک بار آ کے دیکھ لیں جیون کا کیا پتہ
ان سے کہو چراغ یہ مدھم ہیں، دوستو
ہر گھر میں آئے دن کے جو ماتم ہیں، ذمہ دار
حیوان تو نہیں ہیں، ارے ہم ہیں دوستو
حسرتؔ کے حق میں حق نے جو تحریر کر دیا
اس کی رضا کے آگے سرِ خم ہیں دوستو
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






