چلی ہے بارات میرے ہرجائی کی
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Guangxi بعد مدت کے کھلے بھاگ آج نہ کوئی سوگند دو
نہ پابند سلا سل کرو شاہ زنداں سے نکل جانے دو
دیوانے کے شہر میں سجی آج انجمن سخنور کی
نہ روکو بھری محفل میں آج داستان غم سنانے دو
آؤ تم بھی گھڑی دوگھڑی دشمن کے سنگ مل بیٹھو
پھر یہ ساعت آۓ نہ آۓ تم بھی بنا لو مجھے باتیں دو
شام غریباں بھی گزر جایئگی تم دوستی کا پیغام توجانےدو
دور ہوگی یوں قدورت بھی گر ہم مل بیٹھیں آج دیوانے دو
میری تاریک رہ میں کھڑے ہیں جل تھل کے سمندر
نہ باندھو اب کوئ بند شاہ راہ پر آج اے شہر والو
چلی ہے بارات ہرجائ کی شہر میں آج ہرطوفاں کو آنےدو
نہ ہو پھر کبھی دکھ کی بارش سو آج اشکوں کو بہ جانے دو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






