چنتی رہی شب بھر میرے آنسو تیری آواز
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIباتیں تیری الہام ہیں، جادُو تیری آواز
رَگ رَگ میں اُترتی ہُوئی خوشبُو تیری آواز
بہتے چلے جاتے ہیں تہہِ آب ستارے!
جیسے کہیں اُتری ہو لب جُو تیری آواز
پابندِ شبِ کنجِ قفس میں میرا احساس
اُمید کی دھندلی سی کِرن تُو تیری آواز
میں شامِ غریباں کی اُداسی کا مسافر
صحراؤں میں جیسے کوئی جگنو تیری آواز
لفظوں میں چھپائے ہُوے بے ربط دلاسے
چنتی رہی شب بھر میرے آنسو تیری آواز
بس ایک میرے شوق کی تسکین کی خاطر
کیا کیا نہ بدلتی رہی پہلو تیری آواز
یہ ہجر کی شب بھیگ چلی ہے کہ میرے بعد
روتی ہے کہیں کھول کے گیسو تیری آواز؟
دیکھوں تو وہی میں وہی چپ چپ سے دروبام
سوچوں تہ بکھر جائے ہر اِک سُو تیری آواز
محسن کے خیالوں میں اُترتی ہے سرِ شام
رِم جھم کی طرح باندھ کے گھنگھرو تیری آواز
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






