چھوڑو نفرت کی سبھی باتوں کو اے انسانو
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zhahid Sheikh, Lahore,Pakistanچھوڑو نفرت کی سبھی باتوں کو اے انسانوں
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
لے کے ہم ساتھ چلیں مفلسوں، لاچاروں کو
بن کے دنیا میں رہیں ان کے سہاروں کی طرح
ایک تاریکی میں بستے رہے انسان کئی
جن کے لٹتے رہے ہر دور میں ارمان کئی
زیست میں جن کے اندھیرے رہے غاروں کی طرح
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
کچھ بھی حاصل نہ ہوا جنگوں سے اب تک ہم کو
ہم پھیلاتے ہیں ہر اک شخص کی خاطر غم کو
جیتے جی مرتے ہیں سب ظلم کے ماروں کی طرح
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
پیار سے بڑھ کے ہمیں کوئی بھی اب کام نہ ہو
سب ترقی ہی کریں کوئی بھی ناکام نہ ہو
ایک دوجے کے لیے چمکیں ستاروں کی طرح
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
چھوڑو نفرت کی سبھی باتوں کو اے انسانوں
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
لے کے ہم ساتھ چلیں مفلسوں ، لاچاروں کو
بن کے دنیا میں رہیں ان کے سہاروں کی طرح
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






