ڈوبتے ہوئے بادبانوں كو بچايا نا خداؤں نے سبھی
Poet: By: Neelam, Lahoreوہ ازل سے ہی كسی اور كا تھا ميرا كب تھا،
فلک پر موجود چاند تھا وہ روشن ستارا كب تھا...
جب بھی بڑھايا ہم ہی نے بڑھايا ہاتھ تمہاری طرف،
تمھيں ہماری طرف ہاتھ بڑھانا گوارا كب تھا..
دنيا ميں چاہنے والے اور بہت ہوں گے تمہيں،
ہم نے تمہيں چاہا تم نے ھميں چاہا كب تھا..
ڈوبتے ہوئے بادبانوں كو بچايا نا خداؤں نے سبھی،
جب بھی ڈوبی ہوں ميں تمہارا سہارا كب تھا..
ہر شب تمہارے انتظار ميں سجائے بازوؤں ميں گجرے،
تم نے كبھی بھی خود كو ميرے لئے سنوارا كب تھا...
لٹا ديا اپنا دل ، اپنی زندگی ، اپنی جان بھی تم پر،
ہم تو صدا تمہارے تھے بس اک تو ہمارا كب تھا..
اعتبار كے ہر موڑ پر وفاؤں سے كھائے دھوكے ہم نے،
كھوئے ہوئے رشتوں ميں صرف تمہارا خسارا كب تھا...
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






