کبھی چاہا ہی نہیں
Poet: Lubna Kanwal By: Lubna Kanwal, karachiکیا یہ الفاظ میں تمہیں بول پاؤں گی
کیا دنیا میں دنیا والوں کوسمجھا پاؤں گی
کہ میں نے تمہیں کبھی چاہا ہی نہیں
میں اپنی ان آنکھوں کی نمی کو چھپا کر
تم سےیہ بول پاؤں گی کہ
میں نے تمہیں کبھی چاہا ہی نہیں
میں چہرے کے بدلتے ہوئے رنگ کو کیسے روکوں گی
اور کیسے بول پاؤں گی کہ
میں نے تمہیں کبھی چاہا ہی نہیں
میرے دل ٹوٹنے کی آواز تو شاید تم سن نہ سکو
پر میں اپنے دل کو کیسے سمجھاؤں گی کہ
میں نے تمہیں کبھی چاہا ہی نہیں
میں خاموش تو رہ سکتی ہوں
اپنی ان آنکھوں کو کیسے خاموش کراؤں گی
اور تم سے کیسے بول پاؤں گی کہ
میں نے تمہیں چاہا ہی نہیں
میں سامنے تو تمہارے آجاؤں گی
پر ان لرزتے ہاتھوں کو کیسے چھپاؤں گی
اب تم ہی کچھ بتاؤں کہ
میں کیسے بول پاؤں گی کہ
میں نے تمہیں چاہا ہی نہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







