کتنی بدل چکی ہے رت ، جذبے بھی وہ نہیں رہے
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIکتنی بدل چکی ہے رت ، جذبے بھی وہ نہیں رہے
دل پہ ترے فراق کے صدمے بھی وہ نہیں رہے
محفلِ شب میں گفتگو اب کے ہوئی تو یہ کھلا
باتیں بھی وہ نہیں رہیں لہجے بھی وہ نہیں رہے
حلیئے بدل کے رکھ دئیے جیسے شبِ فراق نے
آنکھیں بھی وہ نہیں رہیں ، چہرے بھی وہ نہیں رہے
اس کا مہِ جمال بھی گویا غروب ہو چلا
اپنے وفور شوق کے چرچے بھی وہ نہیں رہے
ہوش و خرد گنوا چکے ، خود سے بھی دور جا چکے
لوگ جو تیرے تھے کبھی اپنے بھی وہ نہیں رہے
یہ بھی ہوا کہ تیرے بعد ، شوق سفر نہیں رہا
جن پہ بچھے ہوئے تھے دل ، رستے بھی وہ نہیں رہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






