کربِ ذات کا گرہن
Poet: رعنا تبسم پاشا By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USAوجودِ بے ثبات میں تغیرِ حیات میں
میری منتشر کائنات میں
از کراں تا کراں
زخمِ جگر کے مہکتے گلاب
چشمِ تر کے بے انت چناب
چند تشنہ کام شکستہ خواب
خوش گمانیوں کے لا حاصل سراب
صلہ میری بے لوث چاہتوں کا
ثمرہ میرے دامن میں
صدیوں کی ریاضتوں کا
خلش نا یافت قربتوں کی
مجھ نیم جاں پہ اِک بارِ گراں ہے
میرا رخشِ تصور تھک چکا ہے
مسافتوں کے غبار میں
ہجرتوں کے فشار میں
میری پرواز دم توڑ جاتی ہے
میرے تخیلات کی تابانیوں پہ
سایہ ہے نا رسائیوں کی تاریک زمینوں کا
میرا دل کربِ ذات کے گرہن میں ہے
نہ مرتا ہے نہ جیتا ہے
عالمِ سکرات میں ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






