کسی ابر کی مانند
Poet: Nisar Zulfi By: Nisar Zulfi, Lahoreکسی ابر کی مانند وہ بھی آج پھوٹ کے شائد رویا ہوگا
ہجر کی لمبی راتوں میں کون کہاں پھر سویا ہوگا
وہ راہ بدل کے چلتا ہے روز کسی امید پہ جو
لگتا ہے کسی موڑ پہ اس نے کارواں کوئی کھویا ہوگا
مجھے رخصت کرنا تیرے لئے یوں کبھی آسان نہ تھا
کتنی نادان سوچ ہے یہ، کون کسی کو رویا ہوگا
آ دیکھ میرے ماتھے پہ اب بھی، آخری وقت کا پسینہ ہے باقی
پھر کس کس داغ کو اے ناداں، دامن سے تو نے دھویا ہوگا
اس کی آنکھوں میں رت جگے کا، اثر کچھ آج واضع نہیں ہے
مدت کے بعد وہ بھی شائد آج کہیں پہ سویا ہوگا
میں الجھ جاؤں ذات میں اپنی، تیری یاد سے مجھ کو پناہ ملے
بڑا خوش بخت انسان ہے جو، خود کو سوچ کے رویا ہوگا
چلو پوچھ آئیں زلفی سے کہ انجام محبت کا کیا ہوا
کوئی بیج وفا کا اس نے بھی، کسی موسم میں شائد بویا ہوگا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






