کسی کی خاطر
Poet: رعنا کنول By: Rana Kanwal, Islmabadوہ تنہا کر گیا کسی کی خاطر
تنہا کرنے کا گلا کر گیا کسی کی خاطر
وہ سب کچھ بھول گیا کسی کی خاطر
بھول جانے کا گلا کر گیا کسی کی خاطر
وہ دھوکہ دے گیا کسی کی خاطر
دھوکےباز ہونے کا گلا کر گیا کسی کی خاطر
وہ ادھورا کر گیا کسی کی خاطر
ادھوری محبّت کا گلا کر گیا کسی کی خاطر
وہ غم اپنے بانٹ گیا کسی کی خاطر
غم دینے کا گلا کر گیا کسی کی خاطر
وہ ایسا دکھ دے گیا کسی کی خاطر
دکھ دینے کا گلا کر گیا کسی کی خاطر
وہ بہت دور چلا گیا کسی کی خاطر
نہ ساتھ چلنے کا گلا کر گیا کسی کی خاطر
وہ اپنے وعدوں سی پھر گیا کسی کی خاطر
بےوفا توں ہے کا گلا کر گیا کسی کی خاطر
وہ مجھے چھوڑ گیا کسی کی خاطر
چھوڑ جانے کا گلا کر گیا کسی کی خاطر
وہ خود کو آباد کر گیا کسی کی خاطر
برباد کر گیا کنول تجھ کو کسی کی خاطر
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






