کسی کے درد سے جب بات ہی نہیں ہوتی
Poet: zain shakeel By: Zain Shakeel, gujratکسی کے درد سے جب بات ہی نہیں ہوتی
میں کیا کروں کہ مری رات ہی نہیں ہوتی
ابھی وہ گھات میں اندازِ طِفل رکھتا ہے
اُسے تو پھر بھی کبھی مات ہی نہیں ہوتی
اُسی کا نام بھی رکھا گیا ہے بزمِ وفا
جہاں وفا کی کوئی بات ہی نہیں ہوتی
اُسے بھی چاند سُناتا نہیں ہے حال مِرا
مِری ستاروں سے اب بات ہی نہیں ہوتی
وہ ذات پات کا قیدی، اُسے یہ کیسے کہوں
خدا کے بعد کوئی ذات ہی نہیں ہوتی
وہ کہہ تو جاتا ہے، ’’لوٹوں گا زینؔ، رات سمے‘‘
پھر اُس کی صبح تلک رات ہی نہیں ہوتی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






