کشمیر
Poet: Shahmeer Mughal By: Shahmeer Mughal, Lahoreاظہار ہے جو لب پہ میرے یہ غم کا
روکے تو کوئی ہاتھ ظالم کے ظلم کا
نازل ہو خدارہ کوئی حسین ابن علی سا
ہے مردہ ضمیر اب تو مسلمان حرم کا
اک نظر خدارہ کشمیر پہ بھی ہو جائے
دیتا ہوں تمہیں واسطہ میں شاہ امم کا
سہمے ہوئے رہتے ہیں یہ محمد کے سپاہی
اترے بھلا لشکر کہاں مححمد بن قاسم کا
بے خبر یہ ملت کے جواں طاقت سے ابھی اسکی
گہرا ہے زخم تلوار سے بھی زیادہ قلم کا
ہے وہم یہ کافر کو کہ لےلےگا وہ کشمیر
اعلاج نہیں بات سنو کوئی بھی وہم کا
اعضاء کوئی کٹتا ہے تو بہتا ہے بڑا خون
کشمیر سے پوچھے تو کوئی درد زخم کا
ڈرتے نہیں ہم جنگ سے شاہ میر بتادو
نہ خوف ہمیں ہے موت کے بھی عالم کا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







