کوئی کیا جانے ؟ وہ ستمگر کس بلا کا تھا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaجیسے سب کہتے ہیں مسیحا اپنا
کوئی کیا جانے ؟ وہ ستمگر کس بلا کا تھا
مہربان بن کے آیا تھا میرے شہرے میرے لیے
کیسے ُاتر گیا دل میں وہ شخص کس ادا کا تھا
وقت ُرخصت ُاس نے مڑ کر بھی نا دیکھا
میرا مہربان میرے دل کا چور بھی کتنی انا کا تھا
میں نے چھوڑ دیا ہیں تمہیں - ہاں یہی آخری جملہ تھا
شاید میری بے لوث محبت پے -وہ اپنی تلخی سے شرمسار سا تھا
میری مانت،میری منیت، میرے آنسو نہ روک سکے ُاسے
مجھ سے بچھڑے کا فیصلہ کسی پتھر کی لکریں کا تھا
ضبط کا اک آنسو گر ہی گیا ُاس کے ُرخسار پے لکی
مگر افسوس ! ُاس دن برسا کے بارش بادل بھی ُاسی کے ساتھ کا تھا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






