کون بیوپار میں دیکھے گا خریدار کا غم
Poet: اتباف ابرک By: ساجد ہمید, Quettaکون بیوپار میں دیکھے گا خریدار کا غم
یہ ہے بازار یہاں بکتا ہے بازار کا غم
تجھ سے مخفی رہے گرتی ہوئی دیوار کا غم
رب دکھائے نہ مرے یار ، تجھے یار کا غم
غمِ دوراں کا ہو مارا تو شفا ممکن ہے
کس کو آئے گا سمجھ آپ کے بیمار کا غم
یہ الگ بات کہ ہم پار اتر آئے ہیں
ہم کو اس پار بھی رہتا ہے اسی پار کا غم
خواب دیکھے ہیں تری نیندوں نے ہنستے بستے
تیری نیندوں کو پتہ ہی نہیں بیدار کا غم
جاگتا روز ہے پھر ایک نئی شدت سے
جھوٹ دعویٰ ہے کہ مٹ جاتا ہے مے خوار کا غم
یہ جو قربت ہے فقط یار ہے سائے کی طلب
بانٹنے آتا نہیں کوئی بھی دیوار کا غم
آپ کے واسطے یہ عشق تماشا ہو گا
دار پر آؤ گے، سمجھو گے ، تبھی دار کا غم
کاش ابرک یہ لگی دل میں لگی رہ جاتی
کم سے کم ایک تو کم ہوتا یہ انکار کا غم
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






