کون و مکاں میں یارو آباد ہیں تو ہم ہیں
Poet: شاہ آثم By: Hassan, Sangharکون و مکاں میں یارو آباد ہیں تو ہم ہیں
اس ارض اور سما کی بنیاد ہیں تو ہم ہیں
وحدت سے تا بہ کثرت سب سے ظہور اپنا
گر ایک ہیں تو ہم ہیں ہفتاد ہیں تو ہم ہیں
سب مرز بوم عالم ہے جلوہ گاہ اپنی
ویران ہیں تو ہم ہیں آباد ہیں تو ہم ہیں
اقلیم خیر و شر میں ہے حکم اپنا جاری
گر داد ہیں تو ہم ہیں بیداد ہیں تو ہم ہیں
اس گلشن جہاں میں سب ہے بہار اپنی
گر قمری ہیں تو ہم ہیں شمشاد ہیں تو ہم ہیں
ہیں جوہر اپنے یارو ہر رنگ میں نمایاں
گر تیغ ہیں تو ہم ہیں جلاد ہیں تو ہم ہیں
ہے دست گاہ اپنی سب شے میں کار فرما
گر فصد ہیں تو ہم ہیں فصاد ہیں تو ہم ہیں
یہ دارگیر عالم سب اپنی حالتیں ہیں
گر دام ہیں تو ہم ہیں صیاد ہیں تو ہم ہیں
یہ راز ہم نے آثمؔ خادم صفی سے پایا
گر رشد ہیں تو ہم ہیں ارشاد ہیں تو ہم ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






